دنیا گیر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - عالم گیر، دنیا میں پھیلا ہوا، کائنات پر چھایا ہوا۔ "برطانیہ تک اس معاملے میں ساتھ نہیں دے رہا یہ دنیا گیر بدنامی رہی ایک طرف اور دوسری طرف روس و چین کی دوستی کا امکان ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، جنگ، ٣٠، ٣:١٨١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق 'دنیا' کے ساتھ فارسی مصدر 'گرفتن' سے فعل امر 'گیر' لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٩٦٦ء کو "روزنامہ جنگ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عالم گیر، دنیا میں پھیلا ہوا، کائنات پر چھایا ہوا۔ "برطانیہ تک اس معاملے میں ساتھ نہیں دے رہا یہ دنیا گیر بدنامی رہی ایک طرف اور دوسری طرف روس و چین کی دوستی کا امکان ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، جنگ، ٣٠، ٣:١٨١ )